Pages

Sunday, March 21, 2010

Journey of Life

ايک دن عاصم اور اس کے بيوي بچوں نے فيصلہ کياسفر پر جانے کااور دنيا کي رنگينياں ديکھنے کا    
.ان کا سفر شروع ہوا
چلتے چلتے
راستے ميں
ايک شخص کھڑا ملا
عاصم نے پوچھا
تم کون ہو ؟؟ 

اس نے کہا ميں مال ہوں  
عاصم نے اپنے بيوي بچوں سے پوچھا  
کيا خيال ہے ؟
کيا ہم اسے ساتھھ بٹھاليں ؟ 
سب نے کہا
ضرور کيوں کہ ہميں اس سفر ميں اس کي ضرورت پڑے گی
اور اس کي موجودگی ميں  
ہم سب کچھھ حاصل کرسکتے ہيں  
عاصم نے مال کو بھي اپنے ساتھھ بيٹھا ليا
اور آگے بڑھے 
جب تھوڑا آگے گئے 
تو  
ايک اور شخص کھڑا نظر آيا  
عاصم نے پھر پوچھا  
تم کون ہو ؟؟؟ 
اس نے جواب ديا ميں

منصب و مقام ہوں  
عاصم نے اپنے بيوی بچوں سے پوچھا  
کيا خيال ہے ؟
کيا ہم اسے ساتھھ بٹھا ليں ؟؟ 
سب نے کہا  
ضرور کيوں نہيں ہميں اس سفر ميں اس کي ضرورت پڑے گی  
اور دنيا کی لذتوں کا حصول اس کي موجودگی ميں بہت آسان ہو جائے گا  
عاصم نے اسے بھي اپنے ساتھھ بٹھا ليا  
اور مزيد آگے بڑھا
اس طرح اس سفر ميں بہت سے  
قسم کے لذات و شہوات سے ملاقات ہوئی  
عاصم سب کو ساتھھ بٹھاتا آگے بڑھتا رہا  
آگے بڑھتے بڑھتے ايک اور شخص سے ملاقات ہوئی 
عاصم نے پوچھا تو کون ہے ؟؟
اس نے جواب ديا ميں  
دين
ہوں
عاصم نے اپنےبيوی بچوں سے پوچھا  
کيا اسے بھي ساتھھ بٹھا ليں ؟ 
سب نے کہا 
ابھي نہيں 
يہ وقت دين کو ساتھھ لے جانے کا نہيں ہے  
ابھي ہم دنيا کی سير کرنے اور انجوائے  
کرنے جارہے ہيں  
اور دين ہم پر بلاوجہ ہزار پابندياں لگادے گا 
پردہ کرو  
حلال حرام ديکھو  
نمازوں کي پابندی کرو 
اور بھي بہت سي پابندياں لگا دے گا  
اور ہماری لذتوں ميں رکاوٹ بنے گا  
ہم انجوائے  
نہيں کر سکيں گے
ليکن ايسا کرتے ہيں کہ سفر سے واپسي پر ہم اسے ساتھ بٹھا ليں گے  
اور اسطرح وہ دين کو پيچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہيں  
چلتے چلتے
آگے  
چيک پوسٹ آجاتا ہے  
وہاں لکھا ہوتا ہے  
stop
وہاں کھڑا شخص عاصم سے کہتا ہے کہ  
وہ گاڑي سے اترے  
عاصم گاڑي سے اترتا ہے  
تو  
وہ شخص اسے کہتا ہے  
تمھارا سفر کا وقت ختم ہو چکا 
مجھے تمھارے پاس  
دين کي تفتيش کرنی ہے  
عاصم کہتا ہے
دين کو ميں کچھھ ہی دوری پر چھوڑ آيا ہوں  
مجھے اجازت دو ميں ابھي جاکر اسے ساتھھ لاتا ہوں  
وہ شخص کہتا ہے  
اب واپسی ناممکن ہے
تمھارا وقت ختم  
ہو چکا 
اب تمہيں ميرے ساتھ چلنا ہوگا  
عاصم کہتا ہے 
مگر ميرے ساتھ مال منصب مقام اور بيوی بچے ہيں  
وہ شخص کہتا ہے 
اب  
تمہيں تمھارا مال منصب اور اولاد  
کوئي بھی اللہ کی پکڑ سے نہيں بچا سکتا  
دين صرف تمھارے کام آسکتا تھا  
جسے تم پيچھے چھوڑ آ ئے  
عاصم پوچھتا ہے
تم ہو کون ؟؟
وہ کہتا ہے 
ميں
مووووووووووووت 
ہوں  
جس سے تم مکمل غافل تھے 
اور عمل کو بھولے رہے  
عاصم نے ڈرتی نظروں سے گاڑی کي طرف د يکھا  
اس کے بيوی بچے اس کو اکيلے چھوڑ 
کر مال و منصب کو لیے 
کسی اور کے ساتھھ اپنے سفرکو مکمل کرنے کے ليے آگے بڑھ گئے 
اور کوئی ايک بھی عاصم کي مدد کے ليے اس کے ساتھھ نہ اترا 

آپ کے خالق کا فرمان ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ

وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

[المنافقون : 9]

مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو اللہ کی ياد سے غافل نہ کردے۔  
اور جو ايسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہيں

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہيں ديتا  
اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ

جس دن نہ مال ہی کچھھ 
فائدہ دے سکے گا اور نہ بيٹے

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور 
تم کو قيامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا ديا جائے گا۔  
تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گيا اور بہشت ميں داخل کيا گيا 
وہ مراد کو پہنچ گيا اور دنيا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے

قال تعالى :

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بيٹے اور بھائی اور عورتيں 
اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو  
اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ ميں جہاد کرنے سے تمہيں زيادہ عزيز ہوں  
تو ٹھہرے رہو يہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (يعنی عذاب) بھيجے۔ 
اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدايت نہيں ديا کرتا

No comments:

Post a Comment