Pages

Sunday, February 26, 2012

Amna Nazli ( ممتاز مصنفہ اور انشاء پرداز آمنہ نازلی )

An article about Amna Nazli. She was a famous writer of Pakistan. This article was written by Mr. Dawood Usmani and published in Daily Jang Karachi on February 2, 2012 Saturday.
________________________________________________________________________________
________________________________________________________________________________
انشاء پردازی میں نمایاں حیثیت کی مالک آمنہ نازلی کا جنم 1914 کو آگرے میں شیخ غلام علی کے ہاں ہوا ۔ آمنہ نازلی کی شخصیت میں ادیبانہ صلاحیتوں کے پودے کی آبیاری دلی میں اس وقت ہوئی ، جب وہ مصور غم علامہ راشد الخیری کے فرزند مولانا رازق الخیری کے نکاح میں آئیں ۔ 
آمنہ نازلی کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا اور اسی شوق کے تحت انھوں نے 12 سال کی عمر میں ایک مضمون لکھ   کر لاہور سے شائع ہونے والے رسالے " سہیلی " کو ارسال کیا ۔ جسے ادارے نے اس جملے کےساتھ واپس کردیا کہ " ابھی محنت سے لکھنے کی ضرورت ہے " ۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ادیب فاضل کیا ۔ ادیب فاضل کی تیاری میں ان کو مولوی احمد میر لکھنوی جیسے استاد میسر آئے ، جو ایک ایک سطر کا مطلب سمجھانے میں بال کی کھال نکالتے اور غضب کے سخن فہم تھے ۔ اور سمجھاتے بھی اس طرح کہ مطلب ذہن نشین کردیتے ۔ 
کئی سال کی مشق کے بعد جب آمنہ نازلی مضمون نگاری میں مشاق ہوگئیں تو ان کے نام کا شمار ماہنامہ  " عصمت " ، "ساقی " اور بنات کی اہل قلم خواتین میں ہونے لگا ۔ 
آمنہ نازلی اس سے پہلے ہی اپنے شوہر کے قائم کردہ اشاعتی ادارے " عصمت بک ڈپو " کے لیے نئی نئی کتابیں تیار کرنے میں ان کی معاونت کر رہی تھیں ۔ کھانا پکانے کے موضوع پر سات کتابیں انھی کی محنت سے شائع ہوئیں ۔ ان میں سے "عصمتی دسترخوان " کے 17 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔ 
اس کے علاوہ دو کتابیں زنانہ دست کاری پر اور چار تالیفی کتب  تاریخی لطیفے ، عقل کی باتیں ، دولت پر قربانیاں اور ہنسی کی باتیں کے نام سے شائع ہوئیں ۔ " تاریخی لطیفے " میں دنیا کے نامور مصنفوں ، شاعروں ، بادشاہوں اور شہزادوں کے لطیفے درج ہیں ۔  " ہنسی کی باتیں " یہ کتاب بھی لطیفوں پر مشتمل ہے ۔ جس میں ہندوستان کے معزز گھرانوں کی محترم خواتین کے طبع زاد مہذب لطیفے جمع کیے گئے ہیں ۔ جنہیں پڑھ کر سنجیدہ سے سنجیدہ انسان بھی ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ لطف یہ ہے کہ وقار و تہزیب سے گرا ہو ا کوئی لطیفہ نہیں ۔ 
آمنہ نازلی کی ذاتی تخلیقی کاوشیں تین کتابوں کی صورت میں موجود ہیں ۔ جن میں سے پہلی کتاب " دوشالہ " ہے جو پہلی بار 1944 میں شائع ہوئی ۔ اس میں پندرہ ڈرامے شامل ہیں ۔ آمنہ نازلی کے مختصر ڈراموں میں سب سے زیادہ قابل ذکر بات ان کی انفرادیت ہے ۔ ایک جداگانہ حیثیت ، ان کا طرز بیان دوسرے ادیبوں سے مختلف ہے ۔ وہ اپنے کردار کو چڑچیلاں کی گلیوں سے لیتی ہیں ۔ ان کے ڈراموں میں اصلاح ، اخلاق اور معاشرت کا فرض نہایت دل فریبی سے ادا کیا گیا ہے ۔ جبات کردار کی تصویر کھینچنے میں زبان نہایت پاکیزہ ، ظرافت بے پناہ ، لیکن سنجیدہ ڈرامے کی اور ساخت بالکل فطری اور بے ساختہ ،  پھر دیہاتیوں اور عورتوں کی زبان بے حد دل فریب ۔ کرداروں میں غریب بھی ہیں اور امیر بھی ، مہذب ، روشن خیال اور قدامت پسند بھی ۔ 
ان کی کتاب  " ہم اور تم " 1947 میں شائع ہوئی ۔ اس میں 24 مختصر افسانے شامل ہیں ۔ 
۔ " ننگے پائوں " آمنہ نازلی تخلیقی کاوشوں کا تیسرا مجموعہ ہے ۔ جس میں 34 مختصر افسانے ہیں ۔ یہ کتاب 1969 میں عصمت بک ڈپو سے شائع ہوئی ۔ 
ان تصنیفی اور تالیفی مجموعوں کے علاوہ آمنہ نازلی نے متعدد مضامین ، بچوں کے لیے کہانیاں ، مختصر افسانے اور انشائیے بھی لکھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہنامہ عصمت اور عصمت بک ڈپو سے شائع ہونے والی کتابوں کے سلسلے میں مولانا رازق الخیری کی مدد بھی کرتی رہیں ۔ 
آمنہ نازلی 2 فروری 1996 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ۔ 

No comments:

Post a Comment